ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / گائے کے نام پر پھر ایک قتل کی واردات؛ راجستھان کے الور میں پیش آیا واقعہ

گائے کے نام پر پھر ایک قتل کی واردات؛ راجستھان کے الور میں پیش آیا واقعہ

Wed, 05 Apr 2017 14:43:48    S.O. News Service

الور5/اپریل (ایس او نیوز/ ایجنسی) مبینہ گوركشا کے نام پر راجستھان کے الور میں کچھ شرپسندوں نے گائے کو لے جانے کے دوران پندرہ  لوگوں کی بری طرح پیٹائی کردی، جس میں ایک شخص نے اسپتال میں دم توڑدیا۔ مارپیٹ میں دیگر لوگ شدید زخمی ہوئے ہیں جنہیں قریبی اسپتال میں داخل کیا گیا ہے۔ واقعہ اُس وقت منظر عام پر آیا جب حملہ کرنے کی ایک وڈیو سوشیل میڈیا میں وائرل ہوگئی، جس میں دیکھا گیا ہے کہ قریب پانچ لوگ دو  لوگوںکی بری طرح پیٹائی کررہے ہیں۔تعجب کی بات یہ ہے کہ سڑکوں پر سواریاں دوڑرہی ہیں، سڑک پر چہل پہل بھی جاری ہے مگر سب کے سامنے شرپسند غنڈےان لوگوں کی بے رحمی کے ساتھ پیٹائی کررہے ہیں۔

راجستھان کے ایک روزنامہ  میں آئی خبر کے مطابق معاملہ الور کے بهروڑ تھانہ علاقہ کا ہے. ہفتہ کو کچھ لوگ جئے پور سے چھ  پک وین گاڑیوں  میں گائیوں کو  ہریانہ لے جا رہے تھے. اسی دوران راجستھان کے الور نیشنل ہائی وے پر بهروڑ تھانہ علاقہ میں کچھ مبینہ گوركشكوں نے ان کی  گاڑیوں کو چاروں طرف سے گھیر لیا اور حملہ بول دیا، حملہ میں گاڑیوں پر سوار لوگ شدید طور پر زخمی ہو گئے. اس میں ایک شدید طور پر زخمی بزرگ شخص جس کی شناخت پہلو خان کے طور پر کی گئی ہے،​​نے ہسپتال میں دم توڑ دیا. خبروں کے مطابق حملہ آوروں نے ان کی گاڑیاں بھی توڑ دیں.

این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق یہ لوگ مبینہ طور پر جئے پور میں منعقدہ پشو میلا سے گائیوں کو خریدا تھا جبکہ شرپسندوں نے ان کی گاڑیوں کو الور میں روک دیا اور گاڑی پر سوار لوگوں کی بے رحمی کے ساتھ پیٹائی شروع کردی۔

پولیس کے مطابق متاثرہ فریق نے گائے خریدنے سے متعلق تمام دستاویزات پیش بھی کئے لیکن حملہ آوروں نے نہیں مانا. حملہ آوروں نے پک اپ وین سے لوگوں کو نکال کر مسلسل پیٹائی کی. پولیس نے مقدمہ درج کرتے ہوئے تحقیقات شروع کر دی ہے. 

واقعے کے تعلق سے راجستھان کے وزیر داخلہ نے کہا کہ پولیس نے مقدمہ درج کر لیا ہے اور تحقیقات جاری ہے. جو بھی قصوروار پایا جائے گا. اس پر کارروائی کی جائے گی.

اُدھر این ڈی ٹی وی نے اپنی رپورٹ میں ایک وزیرکا بیان درج  کیا ہے جس میں وزیر نے حملہ آوروں کا ایک طرح سے دفاع کرنے کی کوشش کی ہے اور کہا ہے  گائیوں کو لے جانے والوں کی بھی غلطی ہے، منسٹر کے مطابق اُن کو پتہ  ہے کہ گائیوں کو لے جانا غیر قانونی ہے، پھر بھی یہ لوگ  باز نہیں آتے۔منسٹر نے مزید کہا ہے کہ گائے کے بھگتوں نے ان کو روکنے کی کوشش کی ۔ بعد میں فوری منسٹر نے یہ بھی کہا کہ قانون کو ہاتھ میں لینا بھی غلط ہے منسٹر کے مطابق پولس دونوں سائیڈ سے معاملے کی جانچ کررہی ہے۔ این ڈی ٹی وی نے اپنی رپورٹ میں منسٹر کا نام درج نہیں کیا ہے۔

خیال رہے کہ اُترپردیش میں جب سے بی جے پی برسر اقتدار پر آئی ہے، پورے ملک میں گائوکشی کے نام پر ڈر اور خوف کا ماحول دیکھا جارہا ہے، گجرات میں بھی گئوکشی کے قانون میں ترمیم کرتے ہوئے گائے کے ذبح کرنے پر عمر قید کی سزا کا قانون لاگو کیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ اس سے قبل سماج وادی پارٹی کے زیر اقتدار میں بھی  اُترپردیش کے ہی دادری میں گائے کے گوشت کے نام پر ایک شخص کا قتل کیا گیا تھا۔


Share: